جمشید* سن 2015 میں پاکستان سے ہجرت کر کے افغانستان منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان میں گزارا ہے اور وہیں تعلیم بھی حاصل کی۔ پاکستان میں اپنا کاروبار اور گھر بار بیچ کر وہ کابل میں آبسے تھے۔
ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ پچھلے چند سالوں میں انہوں نے کابل میں کاروبار شروع کر لیا تھا اور شروع میں تو انہیں کابل میں مشکلات پیش آئیں تھیں۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ سے چھ سال کاروبار کے لیے ساز گار تھے اور کافی پر امن بھی اور وہ تقریبا اب اپنی زندگی افغانستان میں بہتر طریقے سے گزار رہے تھے۔
جمشید کے مطابق افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اب لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ اور لوگ طالبان کے گزشتہ ادوار میں کئے جانے والے اقدامات کی وجہ سے سہمے ہوئے تھے کہ کہیں ان کو نقصان نا پہنچایا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہوں نے غیر ملکی افوج کے ساتھ کام کیا اور انہیں مدد فراہم کی تھی۔

HAMID KARZAI INTERNATIONAL AIRPORT Source: AAP
جمشید کے مطابق کچھ لوگ تو اب زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں لیکن کچھ ابھی بھی اس انتظار میں ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور طالبان کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس وقت خاموش ہیں اور خوف کی فضا قائم ہے۔
کابل کے ہوائی اڈے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے قریب ہی مقیم ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہوائی اڈے کے باہر قطاریں لگائی کھڑی ہے جو افغانستان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کے باہر طلبان کا کنٹرول ہے جبکہ اندر امیریکہ افواج کابل ہوائی اڈے کا انتظام و انصرام سنبھالے ہیں۔
جمشید نے ایس بی ایس کو بتایا کہ وہ ایک پر امن افغانستان کی تلاش میں یہاں آئے تھے اور ایک اچھی زندگی کی طرف گامزن تھی کہ اب پھر سے بے یقینی کی کیفیت وہاں موجود ہے اور آنے والے وقت میں حالات کیسے ہوں گے اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔

Defecting Taliban fighters sit on a tank as they cross the frontline near the village of Amirabad, northern Afghanistan (2001). Source: AP
پاکستان واپس جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہجرت کرنا بار بار آسان کام نہیں ہے اور وہ فی الوقت وہاں حالت دیکھ رہے ہیں اور زندگی کع معول پر آتا بھی دیکھ رہے ہیں اس لیے وہ اب افغانستان میں ہی رہیں گے۔
جمشید کا کہنا تھاکہ باقی لوگ جو ان کے ساتھ پاکستان سے آئے تھے انہیں اس کا علم نہیں کہ وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان جانا چاہتے ہیں۔
(آرٹیکل میں شناخت صیغہ راز میں رکھنے کے لیے حقیقی نام کو تبدیل کیا گیا ہے)
- پوڈ کاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے
, , t - یا کو اپنا ہوم پیج بنائیں
- اردو پروگرام ہر بدھ اور اتوار کو شام 6 بجے (آسٹریلین شرقی ٹائیم) پر نشر کیا جاتا ہے