پاکستان سے گزشتہ برسوں میں افغانستان واپس لوٹنے والے مہاجرین اب کیا سوچتے ہیں؟

پاکستان سے تقریبا چھ برس قبل ایک بڑی تعداد میں افغان ہجرت کر کے واپس افغانستان گئے تھے۔ افغانستان جانے کے چند سالوں میں ہی حالت ویسے ہی ہو چکے ہیں۔ انہی لوگوں میں سے ایک ایسے ہی ایک شخص نے کابل سے اپنی روداد بیان کی ہے۔

Taliban militants are seen in Mehtarlam, capital of Laghman province, eastern Afghanistan, Aug. 15, 2021. (Photo by Str/Xinhua via Getty Images)

Taliban militants are seen in Mehtarlam, capital of Laghman province, eastern Afghanistan, Aug. 15, 2021. (Photo by Str/Xinhua via Getty Images) Source: Xinhua News Agency / Getty Images

جمشید* سن 2015 میں پاکستان سے ہجرت کر کے افغانستان منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان میں گزارا ہے اور وہیں تعلیم بھی حاصل کی۔ پاکستان میں اپنا کاروبار اور گھر بار بیچ کر وہ کابل میں آبسے تھے۔ 

ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ پچھلے چند سالوں میں انہوں نے کابل میں کاروبار شروع کر لیا تھا اور شروع میں تو انہیں کابل میں مشکلات پیش آئیں تھیں۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ سے چھ سال کاروبار کے لیے ساز گار تھے اور کافی پر امن بھی اور وہ تقریبا اب اپنی زندگی افغانستان میں بہتر طریقے سے گزار رہے تھے۔
news
HAMID KARZAI INTERNATIONAL AIRPORT Source: AAP
جمشید کے مطابق افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اب لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ اور لوگ طالبان کے گزشتہ ادوار میں کئے جانے والے اقدامات کی وجہ سے سہمے ہوئے تھے کہ کہیں ان کو نقصان نا پہنچایا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہوں نے غیر ملکی افوج کے ساتھ کام کیا اور انہیں مدد فراہم کی تھی۔

جمشید کے مطابق کچھ لوگ تو اب زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں لیکن کچھ ابھی بھی اس انتظار میں ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور طالبان کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس وقت خاموش ہیں اور خوف کی فضا قائم ہے۔

کابل کے ہوائی اڈے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے قریب ہی مقیم ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہوائی اڈے کے باہر قطاریں لگائی کھڑی ہے جو افغانستان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کے باہر طلبان کا کنٹرول ہے جبکہ اندر امیریکہ افواج کابل ہوائی اڈے کا انتظام و انصرام سنبھالے ہیں۔
Defecting Taliban fighters sit on a tank as they cross the frontline near the village of Amirabad, northern Afghanistan (2001).
Defecting Taliban fighters sit on a tank as they cross the frontline near the village of Amirabad, northern Afghanistan (2001). Source: AP
جمشید نے ایس بی ایس کو بتایا کہ وہ ایک پر امن افغانستان کی تلاش میں یہاں آئے تھے اور ایک اچھی زندگی کی طرف گامزن تھی کہ اب پھر سے بے یقینی کی کیفیت وہاں موجود ہے اور آنے والے وقت میں حالات کیسے ہوں گے اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔ 

پاکستان واپس جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہجرت کرنا بار بار آسان کام نہیں ہے اور وہ فی الوقت وہاں حالت دیکھ رہے ہیں اور زندگی کع معول پر آتا بھی دیکھ رہے ہیں اس لیے وہ اب افغانستان میں ہی رہیں گے۔ 

جمشید کا کہنا تھاکہ باقی لوگ جو ان کے ساتھ پاکستان سے آئے تھے انہیں اس کا علم نہیں کہ وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان جانا چاہتے ہیں۔

 

(آرٹیکل میں شناخت صیغہ راز میں رکھنے کے لیے حقیقی نام کو تبدیل کیا گیا ہے)

 


 

 


 


شئیر
تاریخِ اشاعت 27/08/2021 5:19pm بجے
تخلیق کار Afnan Malik