کانفرنس میں پانچ سو سے زائد ڈیلیگیٹس شرکت کررہے ہیں جبکہ سولہ اجلاسوں میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے آسٹریلیا کے مائی گرنٹس، تارکینِ وطن اور عوامی مسائل اور ان کے حل پر گفتگو کی ہے۔
فیکا کانفرنس 2019 ملٹی کلچلرل کونسل آف تسمانیہ کے اشتراک سے ہوبارٹ میں منعقد کی گئی ہے۔ کونسل کے چئیرپرسن وقاص درانی کا ایس بی ایس سے گفتگو میں کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں اکثر رہنے والے دیگر ممالک سے آئے ہوئے ہیں جنہیں اس ملک کی قدر کرنی چاہیئے۔
"جتنے پیار سے اس ملک نے ہمیں خوش آمدید کہا ہے اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ موقع بھی دیا ہے کہ ہم ان کے ملک کے اندر رہ سکیں، تعلیم حاصل کرسکیں، نوکری کرسکیں اور کمیونٹی کا حصہ بن سکیں۔
"میرے خیال میں یہ ان کی پختگی ہے، ہر کوئی اتنا مدد کرنے والا نہیں ہوتا۔ کبھی کوئی نسل پرستی یا امتیازی سلوک کا واقعہ پیش آتا ہے لیکن ہمیں اپن ذہن کھلا رکھنا چاہیئے۔
ہمیں اپنے ملک اور ثقافت کو اِن کے سامنے بہتر انداز میں پیش کرنا چاہیئے۔
"تسمانیہ میں بہت زیادہ بین القوامی طلبا، ہنرمند مائی گرنٹس، اور پناہ گزین آرہے ہیں، ان سب کے ساتھ ہمیں مل کر پیار محبت کے ساتھ رہنا ہے اور آپس کے اختلافت کو دور کریں۔
فیکا کے چالیس سال ہونے پر وقاص درّانی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہیئے کہ آسٹریلیا کے ابوریجینل لوگوں کو اتنی عزت ضرور دیں جس کے وہ مستحق ہیں۔
LISTEN TO

Multicultural Council of Tasmania working with FECCA for migrants
SBS Urdu
13/10/201907:10

Waqas Durrani - Chairperson, Multicultural Council of Victoria Source: SBS
"یہاں رہنے کے لئے انگریزی بولنا آنی چاہیئے۔ سب سے بڑا مسئلہ نوکری کا ہے۔
یہ ایک ریجنل علاقہ ہے تو نوکری کے مواقع زیادہ نہیں ہیں۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ سب سے پہلے اپنی زبان[انگریزی] کو بہتر کریں، یہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ اپنائیں اور ساتھ ہی اچھی باتیں بھی سیکھیں۔
"تعلیم پر دھیان دیں۔ زیادہ سے زیادہ نوکریوں کے لئے اپلائی کریں ۔ جو خدا تعالیٰ نے آپ کے نصیب میں لکھا ہے وہ آپ کو ضرور ملے گا
۔"