والدین کے لئے آسٹریلین ویزوں میں دو طرح کے ویزے عام ہیں
- پیرنٹ یا والدین کے ویزے کی عام کیٹیگری
- درخواست کے ساتھ رقم یا فیس دینے والی کنٹریبیوٹری کیٹیگری
ان دونوں کٹیگریز میں اصل فرق رقم اورویزہ لگنے کے وقت کا ہے۔ اپریل 2019 میں متعارف کروائے گئی پیرنٹ ویزہ اسکیم (سب کلاس 870) کے تحت والدین کی آسٹریلیا میں قیام کی ذیادہ سے ذیادہ مدت دس سال تک ہو سکتی ہے۔ ہر امیگریشن پروگرام کے تحت سال میں دیئے گئے ویزوں کی تعداد محدود ہوتی ہے۔
آسٹریلین شہری ، مستقل رہائشی اور نیوزی لینڈ کے اہل شہری اپنے والدین کو عارضی یا مستقل طور پر آسٹریلیا لا سکتے ہیں۔
ویزا کی دو اہم اقسام ہیں - ‘والدین کا عمومی ویزہ ’ اور ‘شراکت داری یا کنٹری بیوٹری ویزہ
کنٹری بیوٹری ویزہ زیادہ مہنگا ہے مگر ایسے ویزوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور کنٹری بیوٹری ویزے ہرسال یکم جولائی سے 30 جون تک جاری کئے جاتے ہیں۔
کرونا وائیرس کے دوران ویزا پروسیسنگ کے انتظامات
آسٹریلیا کا محکمہ داخلہ ان مسافروں کے لئے ترجیحی بنیادوں ویزے جاری کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو سفری اثتثنٰی یا اکزیمشن حاصل کر چکے ہوں ۔
ہوم افئیرز کے مطابق درخواست دہندگان کو جہاں بھی ممکن ہو آن لائن درخواست دینے کی ہدایت کی جارہی ہے کیوں کہ آن لائین درخواستوں پر کاغذی درخواستوں کے مقابلے میں ذیادہ تیزی سے کارروائی کی جاتی ہے۔
کووڈ ۱۹ کے باعث اس وقت آسٹریلیا میں سوائے آسٹریلین شہری ، مستقل رہائشی افراد اور ان کے گھر کے افراد کے کسی ویزہ ہولڈر کو بغیر استثنٰی ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ہے اور عام مسافروں کے لئے بین الاقوامی سرحدیں تا حکمِ ثانی بند ہیں۔
اگر آپ کو آسٹریلیا کے محکمہ داخلہ کی طرف سے چھوٹ نہیں دی جاتی تو آپ کو اپنے ویزے کی درخواست روک کر سفر کو موخر کر دینا چاہئے ۔ اگر چھوٹ مل جاتی ہے تو آپ کو ہوائی اڈے پر اس چھوٹ یا استثنٰی کا ثبوت دینا ہو گا ۔
دیں یا مزید معلومات فراہم کریں وہ مسافر جو انسانی ہمدردی یا مجبوری کے باعث آسٹریلیا آنا چاہیں انہیں بھی استثناء کی درخواست دینے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔
والدین کے ویزے کی اقسام
برسبین میں دی مائیگریشن پلیس کی مائیگریشن ایجنٹ اور وکیل زیک بینٹلی کا کہنا ہے کہ کم فیس والے سستے ویزوں کی مانگ بہت زیادہ ہے مگر ایسے ویزوں کی سالانہ تعداد کم اور انتظار کا وقت بہت لمبا ہے ۔ اس ویزے کی منظوری میں 30 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری طرف کنٹری بیوٹری ویزے کی فیس پینتالیس ہزار سے پچاس ہزار ڈالر تک ہوتی ہے مگر یہ ویزہ دو سے پانچ سال میں جاری کر دیا جاتا ہے اورایسے ویزوں کی سالانہ تعداد بھی ذیادہ ہے ۔ جبکہ سستے یا والدینعام کے ویزے کو جاری ہونے میں 18 سے 30 سال بھی لگ سکتے ہیں۔
مالی معیار پر پورا اترنے کے علاوہ ، ویزا درخواست دہندگان کو کردار ، صحت اور ’خاندان کے افراد کی تعداد کا توازن‘ ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے ۔ اگر والدین کے تمام بچوں میں سے زیادہ بچوں کی تعداد آسٹریلیا میں مقیم ہو تو والدین خاندانی توازن کےامتحان میں پر پورا اترتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی والدین کے تین بچے ہیں تو خاندانی امتحان میں توازن پر پورا اترنے کے لئے ان میں سے دو کی آسٹریلیا میں رہائش ہونا چائیے۔

Changes in Parent visa Source: Getty SolStock
اپریل 2019 سے ، حکومت نے اسپانسرڈ پیرنٹ (عارضی) (سب کلاس 870) ویزا متعارف کرایا۔
سائرس مائیگریشن کے سیم جازئیری کا کہنا ہے کہ اس نئے عارضی ویزے پر والدین آسٹریلیا میں تین سے پانچ سال تک رہ سکتے ہیں۔ مگر والدین کے قیام کی کُل مدت صرف دس سال تک ہو سکتی ہے۔ اس عارضی ویزے سے والدین کو اپنے بچوں یا پوتے پوتیوں کے ساتھ دس سال تک یہاں رہنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔
والدین کے اسپانسرڈ ویزے کی قیمت تین سال تک کے لئے 5000 ڈالر یا پانچ سال تک کے قیام کے لئے 10،000 ڈالر ہے۔
پروسیسنگ کا وقت لگ بھگ چار ماہ ہے مگر ایک وقت میں ماں یا باپ میں سے صرف ایک کو اسپانسر کیا جا سکتا ہے۔
سپانسر شدہ پیرنٹ (عارضی) (سب کلاس 870) ویزا کے تحت آسٹریلیا آنے والے والدین۔
- آسٹریلیا میں ملازمت نہیں کرسکتے ہیں
- مستقل ویزا کے لئے درخواست نہیں دے سکتے ہیں
- دس سال بعد انہیں اپنے آبائی ملک واپس جانا پڑے گا
والدین کو آسٹریلیا لانے کے لئے مجموعی طور پر سات قسم کے ویزے ہیں ، لیکن ہر امیگریشن پروگرام کے سال میں دیئے گئے ویزوں کی تعداد محدود ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر مالی سال 1 جولائی 2019 سے 30 جون 2020 تک جاری کردہ تمام پیرنٹ ویزوں کی مشترکہ زیادہ سے زیادہ تعداد 7،371 ویزا تھی۔
ہر امیگریشن پروگرام کے سال میں 15،000 اسپانسر شدہ عارضی پیرنٹس ویزا دیئے جاسکتے ہیں۔
ویزوں کی تعداد جب ایک بار مقرر کردہ تعداد تک پہنچ جاتی ہے تو محکمہ امیگریشن اینڈ بارڈر پروٹیکشن آئیندہ سال کے مائیگریشن پروگرام کے شروع ہونے تک مزید ویزا جاری کرنے سے گریز کرتا ہے۔
خدمات میں خلل
کوڈ ۱۹ کے باعث ویزے جاری ہونے کے پروگرام میں خلل پڑا ہے اور کئی مرحلوں پر تاخیر ہو سکتی ہے۔ پروسیسنگ کے مراحل میں جو خدمات ذیادہ متاثر ہو رہی ہیں ان میں بیرون ملک پینل کے ڈاکٹر ، انگریزی زبان کی جانچ کی سہولیات ، بائیو میٹرک کلیکشن اور کاغذی درخواست جیسی خدمات شامل ہیں۔
ان خدمات کی عدم دستیابی کے باعث اس وقت بیرونِ ملک مقیم بہت سے درخواست دہندگان ویزے کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے ہیں۔ اسلئے درخواست دہندگان کو ویزا پروسیسنگ کے موقوف مراحل مکمل کرنے اور درخواست کے لئے درکار معلومات فراہم کرنے کے لئے مزید وقت دیا جائے گا۔
ویزے کے اجرا میں خلل اور پیرنٹ ویزا پروگرام سے متعلق مزید معلومات کے لئے محکمہ برائے امورِ داخلہ کی ویب سائٹ دیکھیں۔
اگر آپ کو اپنی زبان میں مدد کی ضرورت ہو تو نیچے دئے نمبر
پر کال کرکے مترجم اور ترجمان کی خدمات مفت حاصل کریں۔