پروفیسر جواد سید کا کہنا ہے کہ انیس سو اناسی سےاب تک پاکستان نے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو لیا ہے۔
"میں نے آسٹریلیا، امریکہ اور برطانوی ساتھیوں کو بتایا کہ یہاں اگر چند سو یا چند ہزار مہاجرین بھی آجائیں تو ایک بڑی تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ باتیں ہوتی ہیں کہ ان کو کہیں دور ایک جزیرے پر جاکر بسایا جائے، تاکہ یہ ہماری ذمہ داری نہ بنیں۔
اس کے مقابلے میں پاکستان نے نہ صرف افغان مہاجرین کی میزبانی کی بلکہ بھائی چارے کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان میں اس وقت تیرہ لاکھ کے قریب مہاجرین موجود ہیں جو رجسٹرڈ ہیں۔
لیکن ان کے علاوہ ان مہاجرین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو رجسٹر نہیں ہیں۔
ان کی تعداد آٹھ نو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً تئیس چوبیس لاکھ ہے۔"
پروفیسر سید کا کہنا تھا کہ نہ صرف حکومتِ پاکستان بلکہ اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک نے مل کر کام کرنا ہے۔

Professor Jawad Syed spoke about Afghan refugees and migration in Asia at International Metropolis Conference, Sydney. Source: SBS
"ایک تو ہماری خواہش ہے کہ جب تک یہ پاکستان میں ہیں تب تک ان کی تعلیم، صحت اور کسی حد تک ملازمت اور کام کا انتظام کیا جائے۔
ان کے لئے مناسب رہائش بھی موجود ہو۔ لیکن اس سے بڑھ کر اہم چیز یہ ہے کہ اگرحکومتِ پاکستان چاہتی ہے کہ ان کی وطن واپسی ممکن ہو۔ یا اگر وہ افغانستان واپس جائیں تو افغانستان جانے کے دوران اور اُس سے پہلے ضروری ہے کہ ان کو زیورِ تعلیم سے مکمل طور پر آراستہ کیا جائے۔ ان کو ہنر سکھائے جائیں۔
اس کے بعد افغستان میں کس شہر، کس علاقے میں جاکر انھیں رہنا ہے۔ وہاں پر رہائش کے، تعلیم کے اور ملازمت کے مواقع ہیں۔ ان کی بھی یقین دہانی ہونی چاہیئے۔
جب تک انِ چیزوں کو مکمل طور پر دیکھا اور تجزیہ نہیں کیا جائے گا، تب تک اِن کے مسائل رہیں گے، اور ان کے مسائل سے منسلک مسائل، سیکورٹی کے، سماجی ، وہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں رہیں گے۔"
آسٹریلیا میں تارکینِ وطن کے لئے پالیسی
پروفیسر سید کا کہنا تھا کہ اگر ہم پاکستان کے تنازل میں آسٹریلیا کی پالیسی دیکھتے ہیں، تو پاکستان کا اسّی کی دہائی میں اور نوے کی دہائی کی شروعات میں "رکاوٹ" کا نہیں بلکہ
"قبول" کرنے کی پالیسی تھی۔ یہ پالیسی کئی سالوں تک جاری رہی۔
پروفیسر سید کا کہنا تھا کہ دنیا میں مہاجرین جو تین سب سے بڑے علاقوں سے آئے وہ سب مسلم ممالک میں ہیں اور ان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے بھی تین مسلم ممالک ہی ہیں۔
"اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک تارکینِ وطن یا اس کے درجے کو مذہب سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔

EPA/GHULAMULLAH HABIBI Source: EPA
اور اس سے منسلک چیز یہ ہے کہ جب ان ممالک میں سیاسی مسائل کی بات کرتے ہیں، تشدد کی بات کرتے ہیں تو آپ کو پھر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کا مغرب کی عسکری صنعت سے کیا تعلق ہے۔
پروفیسر سید کا یہ بھی کہنا تھا کہ پناہ گزینوں میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل ہوتی ہیں جن کے بھی کئی مسائل ہوتے ہیں۔