افغان پناہ گزین، پاکستانی پالیسی اور آسٹریلیا کے لئے سبق

Afghan refugee girl

Afghan refugee girl, whose family members fled their village due to war and famine from neighboring Afghanistan. (AP Photo/B.K. Bangash) Source: AP

ایس بى ایس کی موبائیل ایپ حاصل کیجئے

سننے کے دیگر طریقے

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو انیس سو انّاسی سے موجود ہیں۔ ان مہاجرین کےمسائل اور دیگر ایسی سبق آموز باتیں، جو آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں، ایک پاکستانی مقرر نے سڈنی کی بین القوامی مائیگرشن کانفرنس میں بتائیں۔ ایس بی ایس اردو نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جوّاد سید سے خصوصی گفتگو کی۔


پروفیسر جواد سید کا کہنا ہے کہ انیس سو اناسی سےاب تک پاکستان نے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو لیا ہے۔

"میں نے آسٹریلیا، امریکہ اور برطانوی ساتھیوں کو بتایا کہ یہاں اگر چند سو یا چند ہزار مہاجرین بھی آجائیں تو ایک بڑی تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ باتیں ہوتی ہیں کہ ان کو کہیں دور ایک جزیرے پر جاکر بسایا جائے، تاکہ یہ ہماری ذمہ داری نہ بنیں۔

اس کے مقابلے میں پاکستان نے نہ صرف افغان مہاجرین کی میزبانی کی بلکہ بھائی چارے کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان میں اس وقت تیرہ لاکھ کے قریب مہاجرین موجود ہیں جو رجسٹرڈ ہیں۔

لیکن ان کے علاوہ ان مہاجرین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو رجسٹر نہیں ہیں۔

ان کی تعداد آٹھ نو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً تئیس چوبیس لاکھ ہے۔"
Professor Jawad Syed
Professor Jawad Syed spoke about Afghan refugees and migration in Asia at International Metropolis Conference, Sydney. Source: SBS
پروفیسر سید کا کہنا تھا کہ نہ صرف  حکومتِ پاکستان بلکہ اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک نے مل کر کام کرنا ہے۔

"ایک تو ہماری خواہش ہے کہ جب تک یہ پاکستان میں ہیں تب تک ان کی تعلیم، صحت اور کسی حد تک ملازمت اور کام کا انتظام کیا جائے۔

ان کے لئے مناسب رہائش بھی موجود ہو۔ لیکن اس سے بڑھ کر اہم چیز یہ ہے کہ اگرحکومتِ پاکستان چاہتی ہے کہ ان کی وطن واپسی ممکن ہو۔ یا اگر وہ افغانستان واپس جائیں تو افغانستان جانے کے دوران اور اُس سے پہلے ضروری ہے کہ ان کو زیورِ تعلیم سے مکمل طور پر آراستہ کیا جائے۔ ان کو ہنر سکھائے جائیں۔

 اس کے بعد افغستان میں کس شہر، کس علاقے میں جاکر انھیں رہنا ہے۔ وہاں پر رہائش کے، تعلیم کے اور ملازمت کے مواقع ہیں۔ ان کی بھی یقین دہانی ہونی چاہیئے۔

جب تک انِ چیزوں کو مکمل طور پر دیکھا اور تجزیہ نہیں کیا جائے گا، تب تک اِن کے مسائل رہیں گے، اور ان کے مسائل سے منسلک مسائل، سیکورٹی کے، سماجی ، وہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں رہیں گے۔"
آسٹریلیا میں تارکینِ وطن کے لئے پالیسی

پروفیسر سید کا کہنا تھا کہ اگر ہم پاکستان کے تنازل میں آسٹریلیا کی پالیسی دیکھتے ہیں، تو پاکستان کا اسّی کی دہائی میں اور نوے کی دہائی کی شروعات میں "رکاوٹ" کا نہیں بلکہ

 "قبول" کرنے کی پالیسی تھی۔ یہ پالیسی کئی سالوں تک جاری رہی۔

پروفیسر سید کا کہنا تھا کہ دنیا میں مہاجرین  جو تین سب سے بڑے علاقوں سے آئے وہ سب مسلم ممالک میں ہیں اور ان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے بھی تین مسلم ممالک ہی ہیں۔
Afghan family
EPA/GHULAMULLAH HABIBI Source: EPA
"اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک تارکینِ وطن یا اس کے درجے کو مذہب سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔

اور اس سے منسلک چیز یہ ہے کہ جب ان ممالک میں سیاسی مسائل کی بات کرتے ہیں، تشدد کی بات کرتے ہیں تو آپ کو پھر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کا مغرب کی عسکری صنعت سے کیا تعلق ہے۔

پروفیسر سید کا یہ بھی کہنا تھا کہ پناہ گزینوں میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل ہوتی ہیں جن کے بھی کئی مسائل ہوتے ہیں۔


شئیر