آسٹریلیئن کریکیولم اسیسمنٹ اینڈ رپورٹنگ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ بیس برس کے دوران سائینسی مضامین میں شرح خواندگی غیر متاثر کن رہی ہے۔ اس کے مطابق گزشتہ برس سروے میں شامل گریڈ 6 کے محض 56 فیصد طالب علموں نے سائنسی مضامین میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سال 2006 میں بھی یہی حال تھا جب محض 54 فیصد طالب علموں کو سائنسی مضامین میں خواندگی کے برابر معلومات حاصل تھی۔
آسٹریلیئن اکاڈمی برائے ٹیکنالوجی سائنسز اینڈ اینجینیرنگ کی چیف ایگزیکیٹیو کائلی والکر کے بقول یہ حالات قابل تشویش ہیں۔
ان کے بقول اسٹیم مضامین میں پیچھے رہ جانے کی کئی وجوہات ہیں۔
مقامی اینڈیجینس اور ٹورس اسٹریٹ آئی لینڈر بچوں کے لیے تو حالات اس سے بھی بدتر ہیں۔
سسرو ادارے میں ڈائریکٹر ایجوکیشن روتھ کر کے بقول اس مدعے کے پس پردہ عوامل کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اسٹیم یعنی سائنس، ٹیکنالوجی، اینجینیرنگ اور میتھ میٹکس کو بنیادی ضروری تعلیم کا اہم ترین جز تصور کیا جاتا ہے۔
چارلس سٹرٹ یونیورسٹی دراصل دوردراز علاقوں میں اسٹیم موضوعات کی تعلیم بابت ایک تحقیق پر کام کر رہی ہے۔ اس سے وابستہ لیکچرر ڈاکٹر جیمز ڈیھان کے بقول یکساں اور معیاری تعلیم کو ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام بچوں کو برابری کی بنیاد پر مواقع میسر ہوں۔
تو آخر اسے کیسے یقینی بنایا جائے۔ روتھ کر کے بقول اساتذہ کو مزید سپورٹ فراہم کرکے یہ خواب تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
اسی طرح کائل والکر بھی مانتی ہیں کہ بچوں میں تجسس اور دلچسپی کو فروغ دینا ضروری ہے۔