افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں کا رخ کرنے والے حالیہ مہاجرین اور ان سے قبل آکر بس جانے والے ان دنوں اس کشمکش میں ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں؟ نئے آنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد مغربی ممالک کے ویزہ حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں ڈیرے ڈالے ہوے ہے ۔
اسی طرح چار دہائی قبل سابقہ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد آئی ہوئی افغانوں کی کئی نسلیں پاکستان میں مکمل طور پر بس گئی ہیں۔ ایسے میں دونوں کی ممکنہ افغانستان بے دخلی ان کے لیے انتہائی زیادہ پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔
برسبین شہر میں یاسمین نظریار خود تو جان پر کھیل کر افغانستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں لیکن ان کے اندازوں بالکل برعکس ان کے تین بچوں کو وہاں سے نکلنے کی کوششں میں اب تک دو برس بیت چکے ہیں اور منزل اب بھی کافی دور دکھای دیتی ہے۔ یاسمین نے ایس بی ایس اردو کو اپنی مشکلات کے بارے میں بتایا۔
پاکستانی پولیس نے میرے بچوں کو دو مرتبہ اسلام آباد میں حراست میں لیا اور ان سے پیسے بھی لیے۔ اب وہ جہاں قیام پزیر تھے وہاں سے انہیں نکل جانے کا کہا جارہا ہے اور 10 یا 15 دن کے اندر اندر انہیں ملک چھوڑنے کی مہلت دی گئی ہے۔ وہ کہاں جائیں گے.یاسمین نظریار
یاسمین کے بقول ان کی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے نے آسٹریلیا کے ویزے کے لیے درخواست جمع کروا رکھی ہے اور وہ بائیومیٹرک اندراج اور میڈیکل ٹیسٹس بھی کرواچکے ہیں
پاکستانی حکام کا دعوی ہے کہ ملک میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات میں سے بیشتر میں افغان باشندوں کا ہاتھ تھا اسی بنا پر انہیں ایک ماہ کے اندر اندر ملک بدر ہونے کا کہا گیا ہے۔ ان کے بقول, " پتہ نہیں انہیں ویزہ کب ملے گا اور کیوں اتنی دیر ہورہی ہے جبکہ پانچ ماہ قبل ان کے تمام کام مکمل ہوچکے تھے اور وہ صرف آسٹریلیا کے ویزے کا انتظار کر رہے تھے۔"
پاکستان کے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر افغان شہریوں کو پاکستان کی افراتفری کی صورتحال کا بنیادی سبب قرار دیا۔ بگٹی نے دعویٰ کیا اور کہا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک 14 افغان شہری پاکستان میں خودکش حملے کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "یکم جنوری سے اب تک، پاکستان میں خودکش حملے کرنے والے کل 24 افراد میں سے 14 افغان شہری تھے۔"
پاکستان کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ نے اس اجلاس میں واضح کیا ہے کہ غیر قانونی افغان تارکین وطن کے پاس اس سال یکم نومبر تک ملک چھوڑنے کا وقت ہے بصورت دیگر انہیں جبری ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کابل میں برسر اقتدار طالبان کی اسلامی امارت حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور ان کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ہرقسم کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے، ناکہ مہاجرین پر ظلم و ستم ڈھانے کی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق قریب 13 لاکھ افغان مہاجرین قانونی طور پر ان کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور 88 ہزار دیگر کے پاس بھی رہاہش کا قانونی جواز موجود ہے۔ البتہ وزیر داخلہ بگٹی کا کہنا ہے کہ 17 لاکھ افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق تازہ اعلان کے بعد اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے نے پنجاب اور سندھ پولیس پر افغان مہاجرین کے خلاف 'بھیمانہ' آپریشن کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ پاکستانی پولیس بلاتفریق خواتین اور بچوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ منگل کو ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں افغانستان کے سفارت خانے نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 1000 سے زائد افغانوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے نصف کو پاکستان میں رہنے کا قانونی حق حاصل تھا۔
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے حکومت پاکستان کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹوئیٹ میں خبردار کیا ہے:"آج جو شدید نفرت بوئی جا رہی ہے اس سے دشمنی جنم لے گی جس کی فصل کئی نسلیں کاٹیں گی۔ یہ پاک افغان پالیسی کا سیاہ ترین باب ہے.‘‘
چوںکہ فی الحال دنیا کی کسی بھی حکومت نے طالبان کی اسلامی امارت کو افغانستان کی باضابطہ اور رسمی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے اسی لیے وہاں آسٹریلیا اور کسی بھی دوسرے مغربی ملک کا سفارتخانہ فعال نہیں جو ویزہ کے عمل کو آگے بڑھاسکے۔ اس لیے بیشتر افغان مہاجرین پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں آسٹریلیا کے برسبین کی باسی یاسمین نظریار کے بچے بھی شامل وہاں موجود ہیں۔
انہوں نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ پاکستان کی نسبت افغانستان میں ان کے بچوں، بالخصوص بیٹیوں کی زندگی انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔
جب سے میں نے پاکستان سے افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا اعلان سنا ہے میں کافی تشویش میں مبتلا ہوں اور بہت زیادہ پریشان ہوں اور یہی حالت پاکستان میں میرے بچوں کی ہے۔یاسمین نظریار
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں جیسا کہ ایمنسٹی انٹرنیشل، ہیومن رائٹس واچ اور پاکستان کی مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان حکومت سے درخواست کی ہے کہ افغان مہاجرین کو جبری طور پر ملک بدر نہ کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR اور مہاجرت کے بین الاقوامی ادارے IOM نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ وہ مشکلات کے باوجود چار دہائیوں سے زائد عرصے سے افغان شہریوں کے لیے پاکستان کی فراخدلانہ مہمان نوازی کو سراہتے ہیں، اور تمام واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار طریقے سے ہونے کے مطالبے کو دہراتے ہیں - انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغان شہریوں کی جبری وطن واپسی کے نتیجے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا امکان ہے، جس میں خاندانوں کی علیحدگی اور بچوں کی ملک بدری بھی شامل ہے۔