مہم کے تحت، انتخابی کمیشن کا مقصد آن لائن انتخابی عمل کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا جواب دینا اور اسے درست کرنا ہے۔ اس مہم کی سربراہی کرنے والوں میں سے ایک تنظیم کے میڈیا ڈائریکٹر ایون ایکن سمتھ ہیں۔
مسٹر ایکن اسمتھ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے انتخابی نظام کے بارے میں بہت سی غلط معلومات بیرون ملک سے آتی ہیں، جہاں انتخابات اکثر مختلف طریقے سے ہوتے ہیں۔ صرف قانونی حکام ہی انتخابی عمل میں غلط معلومات سے پریشان نہیں ہیں۔
ریسیٹ آسٹریلیا ایک ایسی تنظیم ہے جو آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ا اس کے خیال میں آسٹریلین جمہوریت کو لاحق ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر پالیسی تجویز کرتی ہے۔ دھکشائینی سوریا کمارن تنظیم کی ٹیک پالیسی ڈائریکٹر ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے حال ہی میں آن لائن ایک تجربہ کیا - اور نتائج پریشان کن تھے۔
آسٹریلیا کے انتخابی کمیشن کی ذمہدایریوں میں ایسی معلومات فراہم کرنا شامل ہے جو خاص طور پر کمیونٹی میں مخصوص ایسے گروہوں کو فراہم کی جائیں جن کے لئے آسٹریلیا کا انخابی عمل سمجھنا مشکل ہو۔ آنے والے وفاقی انتخابات میں پہلی بار مہاجریں کا پس منظر رکھنے والے بہت سے لوگ ووٹ ڈالیں گے جن کےلئے انتخابی عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔مسٹر ایکن اسمتھ کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم مدد کے لیے موجود ہے۔
مروج مغربی جمہوری عمل پر یقین نہ رکھنے والے بعض غیر ممالک، پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ دوسرے ممالک کے شہریوں میں غلط معلومات پھیلانے میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔، کیونکہ وہ اپنی پسند کے انتخابی نتائج، یا اختلاف رائے سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتے ہیں۔لیکن محترمہ سوریا کمارن کہتی ہیں کہ یہ سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جو غلط معلومات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔
ایس بی ایس نیوز نے مسٹر ایکن اسمتھ سے پوچھا کہ اس خطے میں جھوٹ پھیلانے سے کون فائیدہ اٹھاتا ہے۔ جواب میں وہ کہتے ہیں کہ یہ بات یقینی ہے کہ جمہوری عمل کے خلاف منفی پروپگنڈے سے کسی جمہوری عناصر کو کوئی فائیدہ نہیں ہوسکتا۔
آسٹریلیا میں اس سال وفاقی انتخابات 21 مئی کو یا اس سے پہلے متوقع ہیں۔
اس پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے سب سے اوپر دئیے ہوئے اسپیکر آئیکون پر کلک کیجئے یا نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے
- یا کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
- اردو پروگرام ہر بدھ اور اتوار کو شام 6 بجے (آسٹریلین شرقی ٹائیم) پر نشر کیا جاتا ہے