بیس منٹ سے ذیادہ ڈاکٹری فون مشاورت کی میڈی کئیر کوریج میں توسیع

Woman with a cold or flu or allergy working at home

Woman with a cold or flu or allergy working at home. She is holding a mobile phone and is also using a laptop computer. Source: iStockphoto

ایس بى ایس کی موبائیل ایپ حاصل کیجئے

سننے کے دیگر طریقے

میڈیکیئر فوائد کا شیڈول ڈایکٹر سے چالیس منٹ سے زیادہ طویل ویڈیو مشاورت کے لیے تو اب بھی موجود ہے لیکن ڈاکٹر سے بیس منٹ سے ذیادہ کی فون مشاورت پر میڈی کئیر ریبیٹ یکم جولائی سے ختم کیا جا رہا تھا، مگر اب حکومت نے یہ کویرج تین مہینے کے لئے بڑھا دیا ہے۔


یکم جولائی سے نافذ ہونے والے  میڈیکیئر بینیفٹس شیڈول کے مطابق  اب  لینڈ لائین یا موبائیل کے ذریعے  ٹیلی ہیلتھ فون پر بیس  منٹ سے زیادہ طویل آئیڈیو  مشاورت کی اسکیم ختم کر دی گئی ہے۔ مگر بیس منٹ سے زیادہ  کی ویڈیو مشاورت کی میڈی کئیر ریبیٹ  اسکیم جاری رہے گی،  کیونکہ ہر ایک  ڈیجیٹل سسٹم پر ویڈیو کال  کرنے کے قابل نہیں ہے،اور نہ  ہر دیہی علاقوں میں ایسا نیٹ ورک موجود ہے جس سے ویڈیو کال  ممکن ہو  اس لئے   دیہی اور علاقائی  آسٹریلیائی باشندوں کے لیے اس اسکیم کا خاتمہ باعث تشویش ہے۔ ڈاکٹر اور اس سسٹم کے حامی حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ فون کال کے ذریعے بیس منٹ سے ذیادہ مشاورت کے ٹیلی  ہیلتھ سسٹم کو   آسٹریلیین میڈی  کیئر سسٹم میں شامل رکھا جائے۔

رائل آسٹریلین کالج آف جنرل پریکٹیشنرز  آسٹریلیا کی سب سے بڑی پیشہ ورانہ جنرل پریکٹس کی تنظیم ہے۔ لیکن تنظیم نے متنبہ کیا کہ مریض 'بلاشبہ'  عارضی ٹیلی ہیلتھ ایکسٹینشنز کو ختم کرنے کے فیصلے سے متاثر ہوں گے،۔


 اب تین مہینے بعد  بیس  منٹ سے زیادہ طویل ٹیلیفون مشاورت کے لیے مریض کی چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔ جن مریضوں کو طویل تقرریوں کی ضرورت ہوتی ہے انہیں اب پریکٹس میں جانے کی ضرورت ہوگی

مجوزہ  اور توسیع شدہ  قوانین سے ڈاکٹروں  کی مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی تعداد محدود ہو جائے گی جب کہ  اور فلو کے بڑھتے ہوئے کیسز ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

رائل آسٹریلین کالج آف جنرل پریکٹیشنرز کی پروفیسر کیرن پرائس  نے وزیرِ صحت کے آخری وقت میں فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ لینڈ لائین فون پر لمبی مشاورت کے لیے  میڈی کئیر ریبیٹ چھوٹ ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔الیکٹرانکس کمپنی فلپس کی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے 40 فیصد آسٹریلوی افراد کی انٹرنیٹ کی رفتار 28 کلو بٹ فی سیکنڈ سے کم ہے۔
ویڈیو کالز کے لیے کم از کم تجویز کردہ رفتار 600 کلو بٹ فی سیکنڈ ہونا چائیے
پروفیسر پرائس کا کہنا ہے کہ لیبر حکومت کو تمام آسٹریلوی باشندوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے اپنے وعدے پر عمل کرنا چاہیے۔

 ڈاکٹروں کی تنظیم  نے وفاقی وزیر برائے صحت اور عمر رسیدہ نگہداشت، مارک بٹلر کی جانب سے نئی ٹیلی ہیلتھ پابندیوں میں تاخیر کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جو یکم جولائی سے لاگو ہونے والی تھیں۔ 

پروفیسر پرائس کہتی ہیں کہ  عالمی وبائی مرض کے تناظر میں، بہت سارے آسٹریلوی باشندوں کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔

رے کنگسٹن مغربی وکٹوریہ  کے ریجنل علاقے میں رہتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ  وہ خوش قسمت ہیں کہ خود ان کے گھر میں  زیادہ تر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل رہتی ہے مگر وہ علاقے کے کئی ایسے مکینوں کو جانتی ہیں جنہیں انٹرنیٹ نہ ہونے پر  کئی بار بیک اپ کے طور پر لینڈ لائین فون کی ضرورت ہوتی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے لیے فون سوروس کا معیار اور ناقص ہو جائے گا جو فون سروسز پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔


کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا  کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔

 

 


شئیر