بڑھتی مہنگائی کے باعث کرسمس پر خریداری میں کمی کا اندیشہ

Man dressed as Santa Claus standing in supermarket, rear view

Man dressed as Santa Claus standing in supermarket, rear view. Source: Getty / Bec Parsons/Getty Images

ایس بى ایس کی موبائیل ایپ حاصل کیجئے

سننے کے دیگر طریقے

اس بات کا خدشہ بڑھ رہا ہے کی اس بار بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث لوگ پچھلے سالوں کے مقابلے تحائف اور سجاوٹ پر کم رقم خرچ کریں گے۔ جبکہ تہوار کے دوران منافع کمانے والے کاروباری تاجر توقع کر رہے ہیں کہ صارفین چھٹیوں کے دوران اخراجات میں کمی نہیں کریں گے۔


کرسمس تیزی سے قریب آرہا ہے اور کاروباری ادارے اس بات کی توقع کر رہے ہیں کہ اس تہوار پربھی خریدار بازاروں کا رخ کریں گے اور بزنس میں اضافہ ہو گا۔

لیکن بوسٹ موبائل کی نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 90 فیصد آسٹریلوی باشندوں نے بڑھتے ہوئے اخراجات کے نتیجے میں اپنی خریداری کے رویے میں تبدیلیاں کی ہیں۔
جیسن ہیز کا کہنا ہے کہ سروے میں شامل آسٹریلوی اپنی گروسری اور پیٹرول کی خریداری کا بغورجائزہ لے رہے ہیں اور وہ رہائش، بجلی اور موبائل فون کے بڑھتے اخراجات کے بارے میں فکر مند ہیں۔

برنارڈو کے سروے کے مطابق 47 فیصد خاندانوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے تحائف کی خریداری میں کمی کریں گے۔

تو، کیا واقعی تحائف اور سجاوٹ کے لیے کرسمس کے صارفین کے اخراجات میں کمی آئے گی؟

لندن کے اسپرٹ آف کرسمس میلے میں تحائف کی خریداری کا آغاز ہو چکا ہے۔
Christmas
Christmas Credit: Wiki Creative Commons
لیکن کاروباری افراد کے لئے صورتحال اچھی نہیں ۔ شپنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات،خام مال کی کمی اور ڈالر کے مقابلے میں ڈالر کی گراوٹ نے بہت سی مصنوعات کی قیمتیں دوگنی کر دی ہیں۔

بالآخر، یہ صارف ہے جس پر مہنگائی کا سب سے ذیادہ بوجھ پڑتا ہے۔

مجدی لبیب ٹریژر ٹری کے مالک ہیں، ایک چھوٹی کمپنی جو کرسمس کے درختوں کے لیے ہاتھ سے بنے ہوئے شیشے کے باؤبلز کی فروخت کا کام کرتی ہے.
Christmas Cards, Christmas Pandemic, Personal Greeting
'It has become a tradition in our family. We add a personal comments in the card and add something special, a photo o memento from the year' Henry Kovacevic Credit: pexels / jonathan-borba
مال کی قیمت بڑھنے کے باوجود وہ قیمتین کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اپنی قیمتوں کو مسابقتی رکھنے کی کوشش کرنے کے لیے اخراجات برداشت کر نے والے دکاندارمشکلات کا شکار ہیں۔ ر وہ کہتے ہیں کہ بڑھتے اخراجات اور مہنگائی کے باعث لوگ تحائیف، تزئین و آرائیش اور سجاوٹ پر خرچ کرنے کو ترجیح نہیں دے رہے۔

اسپرٹ آف کرسمس ایک ایسا میلہ ہے جس میں سینکڑوں بوتیک ایک چھت کے نیچے اسٹال سجاتے ہیں۔ ایونٹ میں 50,000 افراد کے آنے کی توقع ہے۔ بہت سی چھوٹی کمپنیاں ہیں جنہیں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ انہیں میں سے ایک بزنس چاکلیٹ کا ہے۔ ایسی چاکلیٹ بنانے والی کئی کمپنیاں اب اپنے گھروں یا فلیٹ پر ہاتھ سے
چاکلیٹ بنارہی ہیں۔
پولی فیلڈز سے کلیئر شیلڈ پرامید ہیں کہ معاشی مشکلات کے باوجود صارفین کرسمس کے موقع پر خوشی کے لئے رقم خرچ کریں گے.
جان کانسٹنٹائن کے پاس بیچنے کے لئے ہاتھ سے کڑھائی والے خالص اون کے کشن ہیں۔
اُن کے کشن لندن کی سب سے خصوصی دکانوں میں مل سکتے ہیں،خاص طور پر ان علاقن مین جہان پرتعیش سامان زندگی کے خریدار موجود ہیں کیونکہ زیادہ مالیت کے کلائنٹس بھی اسی طرح کم متاثر ہوتے ہیں، لیکن جان کانسٹنٹائن نے بھی امریکہ میں فروخت میں اضافہ دیکھ رہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ ان کی آن لائن فروخت کا 40 فیصد امریکہ سے آنے والے آڈر ہیں - جو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی مضبوطی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
شو میں پہلی بار شریک ہانے والا بزنس کارڈ بوائزہے۔ یہ ایک نئی کمپنی ہے جو نئے فنکاروں اور ڈیزائنرز کو دریافت کرنے اور فروغ دینے کے ساتھ کارڈ سبسکرپشن پیکجز پیش کرتی ہے۔ ، روایتی کرسمس کارڈ یقینی طور پر ان چیزوں کی فہرست میں شامل ہیں جن پر صارف اب رقم خرچ کرنے سے گریز کر رہے ہیں - خاص طور پر ایسے وقت جب کرسمس کا پیغام بھیجنے کے لیے لوگوں تک پہنچنے کے بہت سے آن لائن طریقے ہیں۔تاہم، کارڈ بوائز کے شریک بانی، ایڈم نیونگٹن کا خیال ہے کہ ایک حساس اور خوبصورت یا منفرد پیغام والے کاغذی کارڈ کا اب بھی کوئی نعم البدل نہں۔
اسپرٹ آف کرسمس فیئر میں 700 بوتیک ہیں، لہذا شو کی ڈائریکٹر میری کلیئر بوئڈ کو یقین ہے کہ شو میں تمام بجٹ کے مطابق کچھ نہ کچھ ہوگا۔






شئیر