آسٹریلیاکے ادارہ شماریات کے مطابق عام حالات میں پندرہ سال اور اس سے زیادہ عمر کی دس میں سے تین خواتین آسٹریلیا میں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے زبردست تناؤ کے شکار خاندانوں میں گھریلو اور جنسی تشدّد میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ وکٹوریہ میں خواتین کی بہبود کی تنظیم کی سر براہ مائیخل موریس کہتی ہیں کہ غیر ملکی تارکین وطن اور دوسری زبانیں بولنے والے گھرانوں میں گھریلو تشدد کےمسائیل ذیادہ سنگین ہیں ۔ ان ٹچ نامی تنظیم کی کیس منیجر ڈاکٹر رچنا کہتی ہیں کہ مہاجرین اور ترکِ وطن کر کے آنے والے گھرانوں میں مار پیٹ کا شکار خواتین بیرونی مدد لینے میں روائتی شرم و جھجک کا شکار ہوتی ہیں۔
سفری پابندیوں اور بیروزگاری کے باعث خواتین کا انحصار کمانے والے مرد کی آمدنی پر بڑھ گیا ہے۔ جبکہ لاک ڈاؤن کے دوران دوسری جگہ رہائیش ملنا بھی آسانا نہیں
وہ کہتی ہیں کہ تنظیم کے دوسری زبانوں کے ترجمان اور امیگریشن وکلاء بڑی تعداد میں ایسی خواتین کو مدد فراہم کر رہے ہیں جو دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں۔ کیس منیجر ، ڈاکٹر روچیٹا کہتی ہیں کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ بہت سے متاثرین محدود مالی وسائل ، سرحد بند ہونے اور اپنی گھریلو برادری سے نکالے جانے کے خوف کی وجہ سے اپنے آبائی ملک بھی واپس نہیں جاسکتے ہیں۔
ڈاکٹر روچیتا کا کہنا ہے کہ ایک خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ خاندانی تشدد سے بچ کر آئیں تھیں مگر بعد میں وہ اپنے بچوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے محدود مالی وسائل کی وجہ سے زیادتی کرنے والے کے پاس واپس جانا پڑا۔
ان ٹچ کی مس موریس کہتی ہیں کہ تشدد کرنے والے اب کرونا وائیرس کی پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھی کے پاس راہ فرار نہیں ہے۔

Source: Benjamin RondelGettyImages

Cre8tive Nails owner Rosie Thind with customer in Darwin, Friday, May 15, 2020. Source: AAP Image HELEN ORR
امیگریشن کے وکیل نلیش نندن کا کہنا ہے کہ عارضی ویزہ رکھنے والے شخص کو کسی پرُ تشدد ساتھی کو چھورنے کے لئے الگ ویزے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے اسے ساتھی کے ساتھ نہ رہنے کی وجوہات بتانا ہوتی ہیں اور ساتھ ہی ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات اور پولیس کو بیانات بھی دینا ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لئے آسان نہیں۔

Source: DME PhotographyGetty Images
اگر آپ یا آ کے جاننے والے کا آسٹریلیا میں قیام کا انحصار کسی دوسرے فرد پر ہے اور وہ شخص مارپیٹ اور تشدد میں ملوث ہے تو ایسے لوگوں کی رپورٹ کے لئے آسٹریلیا میں مدد موجود ہے اس سلسلے میں
WWW.INTOUCH.ORG.AU
پر جائیے یا
1800737732
پر کال کیجئے
اپنی زبان میں خواتین کی صحت سے متعلق معلومات کے لئے کثیر الثقافتی مرکز برائے خواتین سے اس کے ٹول فری نمبر
1800 656 421
پر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک رابطہ کریں۔
گر آپ کو زبان کی مدد کی ضرورت ہو تو ، ترجمان کےلئے
131450
پر فون کریں اور اردو میں بات کرنے کو کہیں۔
اگر آپ کی جان کو خطرہ ہے تو فوری طور پر 000 پر فون کریں۔
_______________________
آسٹریلیا میں لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کے دوران کم ازکم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیئے۔
کروناوائرس ٹیسٹنگ اب آسٹریلیا بھر میں موجود ہے۔ اگر آپ میں نزلہ یا زکام جیسی علامات ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو کال کرکے ٹیسٹ کرائیں یا پھر کرونا وائرس انفارمیشن ہاٹ لائن 080 180020 پر رابطہ کریں۔
وفاقی حکومت کی کروناوائرس ٹریسنگ ایپ کووڈسیف اب آپ کے فون پر ایپ اسٹور کے ذریعے دستیاب ہے۔
ایس بی ایس آسٹریلیا کی متنوع آبادی کو کووڈ ۱۹ سے متعلق پیش رفت کی آگاہی دینے کے لئے پرعزم ہے ۔ یہ معلوماتتریسٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔