وکلا کے احتجاج، سپریم کورٹ کے ججز اور جوڈیشل کمیشن ارکان کے اعتراضات کے باوجود سپریم کورٹ میں 6 ججز تعینات کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران وکلا اور پولیس میں تصادم بھی ہوا۔ چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی سے آئی ایم ایف کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے بانی تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کا خط جائزے کیلئے ججز کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اراکین کے شدید احتجاج اور شور شرابے میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا منظور کرلیا گیا۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران درج مقدمات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی 6 اور بشری بی بی کے خلاف ایک مقدمہ کی عبوری درخواست ضمانتوں میں 25 فروری تک توسیع کردی ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ایف یو جے اور اینکرز ایسوسی ایشن کی پیکا ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر عدالتی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی کیس میں پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کے لیے چار مارچ تک کی مزید مہلت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پرسماعت جاری ہے۔
ّّّّّّّّّّّ
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے وکلا کے احتجاج ، کمیشن کے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اور ججوں اعتراضات کے باوجود سپریم کورٹ میں6 ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ سوموار کے روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ میں 8 نئے ججوں کے تعیناتی پر غور کیا گیا۔جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شفیع صدیقی، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہاشم کاکڑ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم سمیت چھ ججز کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دے دی۔ سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کی کارروائی نہ روکنے پر اجلاس کابائیکاٹ کیا۔ بعد ازاں بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر بھی جوڈیشل کمیشن اجلاس سے بائیکاٹ کرگئے۔اس دوران وکلا نے سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی اور دیگر ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹس میں ججز کے تبادلے کیخلاف احتجاج کیا۔ وکلا نے سرینا چوک سے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کی تو پولیس اور وکلا میں تصادم ہوا اور پولیس نے وکلا پر لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کی جانب سے روکے جانے پر وکلا نے نادرا چوک اور بعد ازاں ڈی چوک پر احتجاج کیا۔ کچھ وکلا نے سپریم کورٹ کے باہر بھی احتجاج کیا۔ آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی کے رہنماوں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے جج لانے کے لیے ہورہا ہے۔جوڈیشل کمیشن اجلاس کے دوران آئین کے آرٹیکل 181 کے تحت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو بطور ایکٹنگ جج سپریم کورٹ تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں جج تعینات کرنے کا معاملہ مؤخر کردیا گیا۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ انہیں بانی تحریک انصاف عمران خان کا خط موصول ہوا ہے۔ جو جائزے کیلئے ججز کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئی ایم ایف وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں کیساتھ غیر رسمی گفتگو میں چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان جو چاہتے ہیں وہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 سے متعلق ہے ۔ اس معاملے کو آئینی بینچ نے ہی دیکھنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ وفد کو جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کو جوڈیشل ریفارمز کے بارے میں آگاہ کیا۔ عدلیہ میں اختلافات سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ خط لکھنے والے ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں جو جلد ٹھیک ہوجائیں گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اچھے ججز آرہے ہیں۔ اگر یہ کل بائیکاٹ نہ کرتے تو ایک اور اچھا جج آجاتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تبادلے اور سنیارٹی دو الگ الگ معاملات ہیں انہیں مکس نہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پرسماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کی ۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مرکزی فیصلے میں کہا گیا آرٹیکل 175 کی شق تین سے باہر عدالتیں قائم نہیں ہو سکتیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا نومئی واقعات کی فوٹیج ٹی وی چینلز پر بھی چلائی گئی،، کور کمانڈرز ہاؤسز میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی۔ آج کل جلاؤ گھیراؤ فیشن بن چکا ہے ۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کسی عام شہری کے گھر گھسنا بھی جرم ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا آرمی آفیسرز پر بھی آرٹیکل 175 کی شق تین کا اطلاق ہونا چاہیے۔ جسٹس نعیم افغان نے کہا وہ کام جو پارلیمنٹ کے کرنے کا ہے وہ سپریم کورٹ سے کیوں کروانا چاہتے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیاکہ عدالتی فیصلوں میں جو نشاندہی کی گئی کیا اس پر قانون سازی ہوئی؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا پارلیمنٹ پتہ نہیں کن کاموں میں پڑی ہوئی ہے ۔جو باتیں آپ یہاں کر رہے ہیں وہ پارلیمنٹ کے کرنے کی ہیں ۔ وکیل سلمان اکرم نے کہا سزا دینے کے عمل میں جوڈیشل اختیار کو استعمال کیا جانا چاہئے۔ مارشل لاء ادوار میں بلوچستان ہائیکورٹ نے ہمیشہ عام شہریوں کے تحفظ کیلئے فیصلے دیئے۔وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیاکہ ملزمان نے ملٹری کورٹس حوالگی کو چیلنج کیوں نہ کیا؟ سلمان اکرم راجہ نے بتایا نومئی کے ملزمان اور ان کے اہلخانہ کو سخت حالات سے گزرنا پڑا۔ دس ملزمان نے تو ٹرائل چیلنج کرنےکیلئے مجھے وکیل کیا۔
رپورٹ: اصغرحیات
ّّّّّّّّّّّّّّ______________
یا ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے: