کچرے سے کارآمد اشیا بنانے والی ہنر مند پاکستانی خواتین

recycle the junk.jfif

ایس بى ایس کی موبائیل ایپ حاصل کیجئے

سننے کے دیگر طریقے

گھر میں جمع ہونے والے کچرے سے لے کر پرانے اخبارات اور اسی طرح کی دیگر اشیا جنھیں عام افراد ناکارہ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، مگر پاکستان میں ایک ایسا ادارہ بھی ہے جو ان اشیا کو نہ صرف ری سائیکلنگ کے مرحلے سے گزارنے کے بعد کارآمد بنا رہا ہے بلکہ معقول قیمت پر انھیں مارکیٹ میں فروخت بھی کر رہا ہے۔ تفصیل جانئے اس پوڈ کاسٹ میں ۔


خواتین کو معاشی طور پر مضبوط، بااختیار اور ہنر مند بنانے کے مقاصد کے ساتھ اس ادارے کی بنیاد 1954 میں پاکستان کی پہلی خاتونِ اول بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی تھی، رعنا لیاقت کرافٹ مین کالونی کے نام سے قائم ہونے والے اس ادارے میں ابتدائی طور پر خواتین کی صحت کے مسائل کو ترجیح دی جاتی تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہاں خواتین کو ہنر مند اور معاشی طور پر مضبوط بنانے پر بھی کام ہوا، اب اس ادارے میں سیکڑوں خواتین ری سائیکلنگ کا کام نہ صرف سیکھ رہی ہیں بلکہ کام سیکھ جانے کے بعد انھیں معقول معاوضہ بھی دیا جاتا ہے جس سے انھیں معاشی طور پر مضبوط ہونے میں کسی حد تک مدد ملتی ہے۔
6befd2ef-bd07-47e5-abb4-ac90e93ff0c1.jfif
recycle the junk۲.jfif
ندا خان دو برس قبل اس ادارے میں رجسٹرڈ ہوئیں، ندا خان کے مطابق ہنر سیکھنے کے بعد اُن کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا، کام کا تجربہ حاصل کر نے بعد اب نہ صرف انھیں معاوضہ ملتا ہے بلکہ خاندان کو بھی مالی طور پر سپورٹ کرنے میں کافی مدد مل جاتی ہے۔رعنا لیاقت کرافٹ سینٹر میں اس وقت نہ صرف 350 سے زائد خواتین رجسٹرڈ ہیں بلکہ یہ خواتین معاشرتی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
(ایس بی ایس اردو کیلیے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی ہے۔)
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا
ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:

شئیر